ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / الیکشن کمیشن کا چیلنج: 3 جون سے پارٹیوں کو مل جائے گا ای وی ایم سے چھیڑ چھاڑ ثابت کرنے کا موقع

الیکشن کمیشن کا چیلنج: 3 جون سے پارٹیوں کو مل جائے گا ای وی ایم سے چھیڑ چھاڑ ثابت کرنے کا موقع

Sat, 20 May 2017 21:00:12    S.O. News Service

نئی دہلی،20مئی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)8 سال بعد ایک بار پھر الیکٹرانک ووٹنگ مشین کو لے کر پیدا ہوئے تنازعہ کے چلتے آخر کار الیکشن کمیشن نے ان خدشات کو ختم کرنے کے لئے ای وی ایم اور وی وی پی اے ٹی کا ڈیمو دیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) نسیم زیدی نے کہا کہ حالیہ پانچ ریاستوں کے انتخابات کے بعد اس سلسلے میں کئی شکایات اور تجاویز ملی ہیں لیکن کمیشن کو کوئی ثبوت نہیں دیا گیا ہے۔ اس بارے میں کسی نے بھی کوئی قابل اعتماد ثبوت نہیں دیا۔اس کے ساتھ ہی سی ای سی نسیم زیدی نے کہا کہ ای وی ایم کے ساتھ چھیڑچھاڑ ممکن نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی کمیشن نے صاف کہا کہ اس کی کسی بھی پارٹی کے ساتھ قربت نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ یہ ای وی ایم بیرون ملک سے آ رہی ہیں لیکن ایسا نہیں ہے، ہماری مشینیں ملک میں ہی بنتی ہیں۔ ان مشینوں میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس کے ڈیٹا کی منتقلی نہیں ہو سکتی۔ اس کے ساتھ ہی سی ای سی نے کہا کہ خدشات کو ختم کرنے کے لئے 2019 کے عام انتخابات سے ہر ووٹر کو وی وی پی اے ٹی دستیاب کرائی جائے گی۔ ایسا کرنے والا ہندوستان پوری دنیا کا تنہا ملک ہوگا۔اگرچہ فوری طور اس مسئلے پربضد آپ لیڈر اروند کجریوال نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن نے ہمیں ابھی تک وی ایم مہیا نہیں کرایا۔قابل ذکر ہے کہ اس سے پہلے 2009 میں ایسا ہی ڈیمو الیکشن کمیشن دے چکا ہے۔ اس وقت بھی جماعتوں نے ای وی ایم کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا مسئلہ اٹھایا تھا۔


Share: